Nameless

کسی داستان قدیم میں, مرے دو چراغ بھی دفن ہیں
میں وہ شاہ زادہ بخت ہوں جسے تخت و تاج نہیں ملا

یہ نہیں کہ میری محبتوں کو کبھی خراج نہیں ملا
مگر اتفاق کی بات ہے, کوئی ہم مزاج نہیں ملا

مجھے ایسا باغ نہیں ملا, جہاں گل ہوں میری پسند کے
جہاں زندہ رہنے کا شوق ہو مجھے وہ سماج نہیں ملا

میں اک ایسی موت ہوں جس کے سوگ میں کام بند نہیں ہوئے
کوئی شورِ گریہ نہیں اٹھا کہیں احتجاج نہیں ملا

کوئی آس کوئی اُمید ہو کہیں اُس کی کوئی نوید ہو
کئی دن ہوئے مرا خوش خبر مرا خوش مزاج نہیں ملا

تری گفتگو میں نہیں ملی وہ مٹھاس پیار کے شہد کی
سو, قرار جیسا قرار بھی مرے دل کو آج نہیں ملا

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s